تب زلف کہیں تا بہ کمر جائے ہے پیارے
جس دن کوئی غم مجھ پہ گزر جائے ہے پیارے
چہرہ ترا اس روز نکھر جائے ہے پیارے
اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا میں
تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیارے
رہنے دے جفاؤں کی کڑی دھوپ میں مجھ کو
سائے میں تو ہر شخص ٹھہر جائے ہے پیارے
وہ بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل
سمجھانے میں اک عمر گزر جائے ہے پیارے
ہر چند کوئی نام نہیں میری غزل میں
تیری ہی طرف سب کی نظر جائے پیارے
کلیم عاجز