جب سے تیری یاد پتھّر ہو گئی

جب سے تیری یاد پتھّر ہو گئی
ہو گئی برباد پتھّر ہو گئی
بے خبر میرے تجھے اِس بار میں
کرتے کرتے یاد پتھّر ہو گئی
عرش کی جانب چلی تھی اور پھر
میری ہر فریاد پتھّر ہو گئی
بہہ نہیں پائی تمھاری آنکھ کیوں
کیوں مری روداد پتھّر ہو گئی
ہائے دل نگری کی قسمت کیا کہوں
ہو کے جو آباد پتھّر ہو گئی
حوصلے اتنے مرے نازک نہ تھے
پڑ گئی افتاد پتھّر ہو گئی
اب مجھے حیرت نہیں ہوتی سنو!
میں تمھارے بعد پتھّر ہو گئی
منجمد تھا وہ غزل سن کر مری
اور ساری داد پتھّر ہو گئی
فوزیہ ربابؔ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *