ملنے جایا جا سکتا تھا
کچھ بھی پہلے جیسا کب ہے
پھر بھی آیا جا سکتا تھا
تم سنتے ہی کب تھے ورنہ
دکھ سمجھایا جا سکتا تھا
تم کو کیسے یہ سمجھائیں
گھر بھی آیا جا سکتا تھا
دل کے اندر ہی بس تیرا
دکھ دفنایا جا سکتا تھا
ان خالی خالی رستوں پر
آیا جایا جا سکتا تھا
فوزیہ ربابؔ