کیسے موڑ پہ تونے چھوڑا کوزہ گر
میں بھی خود سے روٹھی روٹھی رہتی ہوں
جب سے توٗ نے مُکھ ہے موڑا کوزہ گر
اب تو بکھرے بکھرے ہیں اجزا میرے
جوڑا تھا تو کیوں کر توڑا کوزہ گر
میری ہستی میں بھی تیری ہستی ہے
میرا مجھ میں کچھ بھی نہ چھوڑا کوزہ گر
میں نے خود میں تیری یاد سجائی ہے
جب بھی تونے تنہا چھوڑا کوزہ گر
رگ رگ میں اب محشر برپا رہتا ہے
دکھ تھا پہلے بھی کب تھوڑا کوزہ گر
کس نے مجھ سے چہرہ میرا چھینا ہے
کس نے میرا خون نچوڑا کوزہ گر
فوزیہ ربابؔ