عجیب درد سا پھیلا ہوا ہے بستی میں

عجیب درد سا پھیلا ہوا ہے بستی میں
سنا ہے وہ کہیں ٹھہرا ہوا ہے بستی میں
مری گلی میں وہ اک عمر کاٹنے والا
مرا مکان ہی بھولا ہوا ہے بستی میں
فضا میں آج پرندوں کا بَین جاری ہے
کسی غریب کا جھگڑا ہوا ہے بستی میں
امیرِ شہر کو بستر پہ کیا خبر لوگو!
کہ کون بھوک سے تڑپا ہوا ہے بستی میں
کسی کی آنکھ مجھے معتبر نہیں لگتی
ہر ایک شخص ہی سہما ہوا ہے بستی میں
یہ آج سارے ستارے تجھے بتائیں گے
ترے لیے کوئی جاگا ہوا ہے بستی میں
ربابؔ اس سے ملاقات اب نہیں ممکن
کہ وصل چین سے سویا ہوا ہے بستی میں
فوزیہ ربابؔ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *