کبھی لب پہ نعت سجا سکوں مجھے اذن دے
میں مدینہ جا کے سنا سکوں مجھے اذن دے
مری التجائیں حضور ان کے پہنچ سکیں
انھیں دُکھ میں اپنے سنا سکوں مجھے اذن دے
مری عمر گزرے فقط حضور کی یاد میں
کہ میں اپنی ذات بھُلا سکوں مجھے اذن دے
مجھے اس جہاں کی طلب نہیں مرے کبریا
میں اُنھیں کی خود کو بنا سکوں مجھے اذن دے
کبھی ان کے سامنے بیٹھ کر اے مرے خدا
میں تڑپ کے اشک بہا سکوں مجھے اذن دے
مجھے اذن دے کہ حروف اتنے ہوں معتبر
میں انھیٖں کو ان میں بسا سکوں مجھے اذن دے
مجھے حشر میں بھی انھیٖں کا دستِ کرم ملے
میں یہاں بھی ان سے نبھا سکوں مجھے اذن دے
فوزیہ ربابؔ