اک بار مجھے آواز تو دے

اک بار مجھے آواز تو دے
ترے لمس کی خوشبو پہنوں گا
ترے درد کو ہار بنائوں گا
اک بار مجھے آواز تو دے
میں صدیوں پار سے آئوں گا
ابھی کاغذ پر میں لکھتا ہوں
بے صَوت ہے میرا شہرِ سخن
جب دھڑکن لفظ میں گونجے گی
میں تب شاعر کہلائوں گا
اعتبار ساجد
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *