یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت

یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت
مل کے لوگوں سے بھی پچھتائے بہت

ایسے لمحے زیست میں آئے بہت
ہم نے دھوکے جان کر کھائے بہت

یہ نہیں معلوم کہ کیا بات تھی
رو رہے تھے میرے ہمسائے بہت

تم ہی بتلا دو کہ کوئی کیا کرے
زندگی جب بوجھ بن جائے بہت

ہم فراز دار تک تنہا گئے
دو قدم تک لوگ ساتھ آئے بہت

شہر غم جیسا تھا ویسا ہی رہا
یوں جہاں میں انقلاب آئے بہت

ڈوبنا اختر تھا قسمت میں لکھا
ویسے ہم طوفاں سے ٹکرائے بہت

وکیل اختر

Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *