وہ کھلونا ہوں جسے توڑ

وہ کھلونا ہوں جسے توڑ دیا جاتا رہا
اور پھر تیرے لیے جوڑ دیا جاتا رہا
کیا تجھے بھول گیا؟ عہد فراموش، مرے!
تیری اُمید پہ سب چھوڑ دیا جاتا رہا
میں تو اک پُتلی تماشے کا ہی کردار تھا بس
میرے ہاتھوں ہی مجھے توڑ دیا جاتا رہا
ہم جو خاموش رہے پھر بھی زباں کاٹی گئی
باقی لوگوں کو تو بس چھوڑ دیا جاتا رہا!
پہلے رستوں پہ ترے مجھ کو چلایا جاتا
پھر تری رَہ سے مجھے موڑ دیا جاتا رہا
کتنے مجبور تھے ہم پھر بھی ذرا یاد تو کر،
اک تجھے چھوڑ کے سب چھوڑ دیا جاتا رہا
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *