وہ چند روز میں کیسے

وہ چند روز میں کیسے مجھے بھلا بیٹھا
میں سوچتا تھا کہ اس میں زمانے لگتے ہیں
کوئی بھی شخص محبت سے ملنے آ جائے
ہم اس کی راہ میں پلکیں بچھانے لگتے ہیں
عشا کے وقت مجھے لوٹ آنا پڑتا ہے
وگرنہ گھر سے مجھے فون آنے لگتے ہیں
ہمارا مسئلہ تجھ کو سمجھ نہ آئے گا
خوشی ملے بھی تو رونے رلانے لگتے ہیں
اس ایک غم میں وہ مجھ سے لپٹ کے روتا ہے
کہ اس کو چھوڑ کے سب لوگ جانے لگتے ہیں
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *