میں بولا کچھ نہیں ہوتا برائے نام ہوتے ہیں
وہ بولی پہلے پہلے تم خوشی سے ملنے آتے تھے
میں بولا اب تو میرے پاس بس آلام ہوتے ہیں
وہ بولی شام ہو جائے تو تم محوِ دعا رہنا
میں بولا شام میں مجھ کو ضروری کام ہوتے ہیں
وہ بولی دیکھ لو لوگوں نے مجرم ہی بنا ڈالا
میں بولا پاس لوگوں کے فقط الزام ہوتے ہیں
وہ بولی رات دن کی میں تو اک آزاد قیدی ہوں
میں بولا روز ہم بھی تو اسیرِ شام ہوتے ہیں
وہ بولی اب ترے دل کی صدا آتی نہیں مجھ کو
میں بولایوں محبت ہو تو کب الہام ہوتے ہیں
وہ بولی ڈر رہی ہوں میں مرے جذبے نہ بک جائیں
میں بولا یوں ہی مجبوری میں سب نیلام ہوتے ہیں
وہ بولی زین! تیرا کوئی پوچھے گر، تو کیا بولوں؟
میں بولا بس یہی کہنا کہ وہ گمنام ہوتے ہیں
زین شکیل