مت ہم سے ہونا دُور پیا
ہم کرچی کرچی دل والے
ہم ہو گئے چکنا چُور پیا
اب کون انالحق ھُو بولے
اب کون بنے منصور پیا
جب نام تمہارا سُن لیویں
ہم ہو جاویں مسرور پیا
اک بار ہمیں اپنا کہہ کر
تم کر دو ناں مغرور، پیا
ہمیں ناگ ڈسیں بے چینی کے
تم جب سے ہو مہجور پیا
ہم آخر تیری چاہت میں
ہو بیٹھے ہیں محصور پیا
اس دل اندر تصویر تری
ترا چاروں جانب نور پیا
اک سچی پریت کے بندھن میں
ہمیں مر جانا منظور پیا
زین شکیل