کون آیا تھا؟ کون آئے

کون آیا تھا؟ کون آئے گا؟
کس لیے گھر کو تُو سنوارتا ہے؟
کون شہ رگ سے بھی قریں بیٹھا
میرے اندر مجھے پکارتا ہے
سر سے ماؤں کا سایہ اٹھ جائے
کون، یارو، نظر اُتارتا ہے
جیسے مشکل کا وقت کاٹتے ہیں
وہ مجھے اس طرح گزا رتا ہے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *