اُداسی بانجھ ہوتی ہے سُنا ہے
کوئی ایسا وظیفہ ہو کہ جس سے
سبھی بے چینوں کو موت آئے
میں جس رستے پہ چل نکلا ہوں صندل
اگر لوٹا نہیں تو صبر کرنا
بتاؤ اور کیا اب چاہتے ہو
تمہیں معصومیت سے بھی گلہ ہے
جہاں دنیا فنا ہوتی ہے ساری
قلندر اس سے آگے سوچتا ہے
جہاں پر انتہا ہے زندگی کی
وہیں پر ابتدا لکھا ہوا ہے
زین شکیل