فیصلہ اس کے فقط حق میں

فیصلہ اس کے فقط حق میں سنایا ہوا ہے
ہم کو اس شخص نے پاگل جو بنایا ہوا ہے
جس کو گھنٹوں سے بٹھا رکھا ہے تو نے باہر
تیرے ملنے کو بڑی دور سے آیا ہوا ہے
میں گریبان میں پہلے سے ہی جھانک آیا تھا
آئینہ خود کو کئی بار دکھایا ہوا ہے
وہ جسے دیکھ کے، منہ پھیر کے، ہنس دیتے ہو
ہائے وہ شخص زمانے کا ستایا ہوا ہے
میں تجھے پائے ہوئے خود کو تلاشوں ہر جا
یہ بتا تُو نے کہاں مجھ کو گنوایا ہوا ہے؟
روزِ محشر ہے بنے سنورے ہوئے ہیں آقا
حشر میں، حشر نے اک حشر اٹھایا ہوا ہے
ہاتھ میں خوشبو لیے جانبِ من آؤ ذرا
میں نے کاغذ پہ کوئی پھول بنایا ہوا ہے
جس طرف جائے تری سمت چلا آتا ہے
زین کو تو نے یہ کس رہ پہ چلایا ہوا ہے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *