شہر سے دور بسوں شہر

شہر سے دور بسوں شہر بسانے کے لیے
میں نے کیا سوچ لیا عمر بِتانے کے لیے
یہ بھی اندازِ محبت ہے تجھے کیا معلوم
تجھ کو ہر بات بتاتا ہوں چھپانے کے لیے
یاد آتے ہو تو دکھتی ہے رگِ جاں پل پل
اب تو لوٹ آؤ مجھے یاد نہ آنے کے لیے
یہ بھی کیا لوگ ہیں احساس و جنوں سے عاری
شعر کہتے ہیں فقط نام کمانے کے لیے
مان جاتا ہے تو سینے سے لپٹ جاتا ہے
سو میں ناراض کروں اُس کو منانے کے لیے
زینؔ شاید مجھے اس طور قرار آ جائے
وہ اگر لوٹ کے آ جائے، نہ جانے کے لیے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *