شب کاٹتی ہےکیا چاہتی

شب کاٹتی ہے
کیا چاہتی ہے
گم ہو گئی ہے
جب بھی ملی ہے
کیونکر ہنسے ہو
دکھ کی گھڑی ہے
کچھ مت بتاؤ
کچھ تو چھپاؤ
آنسو بہاؤ
ہر سُو خوشی ہے
بولو تو کیونکر
یہ کج روی ہے؟
پوچھو قضا سے
کیوں چپ کھڑی ہے؟
میں اک اسی کو
سب مانتا ہوں
وہ ایسی ناداں
سب جانتی ہے
میرے دکھوں پر
ہنستی رہی ہے
میں نے سنا ہے
وہ خوش نہیں ہے
اس نے کہا تھا
دکھ دائمی ہے
میری کہانی
کس نے سنی ہے
وہ میری خاطر
ٹھہرا نہیں ہے
کیا بین کر لوں؟
موت آ گئی ہے
ماتم تو کر لوں
میّت پڑی ہے
ماتم رچاؤ
میّت سجی ہے
دل کے نگر میں
اک‫ فوتگی ہے
لو انتظاری
کٹ بھی گئی ہے
آنکھوں میں شاید
اب کچھ نہیں ہے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *