سنو! ہنسنا تھا یوں رونا

سنو! ہنسنا تھا یوں رونا نہیں تھا
تو پھر وہ حادثہ ہونا نہیں تھا
جو تُو ملتا تو تیرا دھیان رکھتے
تجھے ہم نے کبھی کھونا نہیں تھا
جہاں میں ہوں وہاں تُو ہی نہیں ہے
جہاں تُو ہے وہیں ہونا نہیں تھا
مجھے بھی جاگنے کی عادتیں تھیں
اُسے بھی دیر تک سونا نہیں تھا
ہمیں ازبر نہ تھے آدابِ دنیا
جہاں روئے وہاں رونا نہیں تھا
تری خاطر گرائیں سب فصیلں
مرے دل میں کوئی کونا نہیں تھا
یہ کچی عمر اور اس پر محبت؟
ابھی سے بوجھ یہ ڈھونا نہیں تھا!
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *