زخم برپا نئی حیرانی کیے

زخم برپا نئی حیرانی کیے دیتے ہیں
درد ہی درد کی درمانی کیے دیتے ہیں
خود ہی لے آتے ہیں ہر زخم ترے ناخن تک
ہم ترے واسطے آسانی کیے دیتے ہیں
ایک نپٹا کے پلٹتا ہوں تو اگلے لمحے
غم، کھڑی پھر سے پریشانی کیے دیتے ہیں
آنکھ سے بہتے ہوئے اشک کو پانی نہ سمجھ
یہ تو غم ہے جسے ہم پانی کیے دیتے ہیں
شہر کے شور و شغب سے بھی اگر اُلجھن ہے
آ تجھے دل میں ہی ویرانی کیے دیتے ہیں
یہ تِرا ہجر کوئی مسئلہ کب ہے لیکن
اِس پہ ہم پھر نظرِ ثانی کیے دیتے ہیں
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *