جو میرے دل میں اداسی کو

جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا
وہ دور جا کے مجھے اور یاد آنے لگا
یقیں کرو مری سانسیں اکھڑ گئیں اُس دم
وہ میرے پاس سے جس وقت اُٹھ کے جانے لگا
میں کوئی بات ستاروں سے کرنے والا نہیں
یہ چاند کس کی کہانی مجھے سنانے لگا
وہ دفن کر کے مجھے خوش ہے اور سوچتا ہے
بھلا ہوا کہ کوئی درد تو ٹھکانے لگا
جب اُس سے کچھ بھی نہیں بن سکا تو وہ آخر
ہنسی ہنسی میں مری بات بھی اڑانے لگا
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *