“ہم” ہوتے ہیں۔۔۔۔
تم آنسو آنسو کھیل کے ہنستے رہتے ہو
ہم ہنستے ہنستے پاگل نین بھگوتے ہیں
یہ کیسی پریت ہے، کیسا بندھن ہے جس کی
بنیاد میں دکھ کی بھرتی ہے
ہم دل کے چاک نہیں سیتے
ہم دل میں درد پروتے ہیں
کچھ بیج دکھوں کے بوتے ہیں
امید لگاتے ہیں دل سے اک پودا پھوٹے،
جس کی بنیادوں میں دکھ ہو،
جس پر سکھ کا پھل آئے
ہم آدھے پونے پاگل ہیں
ہم سارے کب دیوانے ہیں۔۔۔
وہ آسانی سے کھو جائے
جس کو مشکل سے پایا ہو
چپ چاپ اسے ہم کھوتے ہیں
دن اجلے اجلے اور سیہ چہروں کی بھیڑ میں کٹتا ہے
ہم شب بھر روز تمھیں آوازیں دیتے ہیں
تم بھی آواز نہیں سنتے
ہم روتے ہیں
ہم رو رو تیری یاد میں نین بھگوتے ہیں
پھر سوتے ہیں۔۔
زین شکیل