میں آئینوں سے تِرا عکس بھی چرا لیتا!!
سنا ہے بات بنانے میں تو بھی ماہر ہے
سو کوئی بات مرے رُوبرو بنا لیتا!!
میں اپنی پھوٹی ہوئی آنکھ پر رہا راضی
میں تیرے خواب سے اب انتقام کیا لیتا!!
میں اس طرح سے تجھے ٹوٹنے نہیں دیتا
اگر تُو آ کے مجھے حالِ دل سنا لیتا!!
میں واجباتِ محبت پہ سوچتا بھی نہیں
میں اپنا آپ گنوا کر بھی تجھ کو پا لیتا!!
ذرا سی دیر پہ تُو نے اٹھا لیا محشر
میں سو گیا تھا تو آ کر مجھے جگا لیتا!!
زین شکیل