کبھی ناراض ہو کر دیکھ لینا
ہماری چشم کی حیرانیوں میں
اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
ہمیشہ ٹوٹتی ہے شام بن کر
محبت کے اسیروں پر قیامت
خوشی کو دیکھنے کی جستجو میں
کسی غم کا جنازہ پڑھ رہا ہوں
مرے خوابوں کو اکبر صفت کوئی
کسی دیوار میں چنوا گیا ہے
مجھے یہ چین غم کی ساعتوں میں
کسی دُکھ کے وسیلے سے ملا ہے
اب اس کے بعد اس کے رابطوں سے
ابھی تک رابطہ رکھا ہوا ہے
زین شکیل