تجھ کو ہر شعر میں تجسیم

تجھ کو ہر شعر میں تجسیم نہیں کرنا ناں
میں نے ہر بات کو تسلیم نہیں کرنا ناں
داغ ہیں پھر بھی ترا حسن مکمل تر ہے
ماہمِ من تجھے دو نیم نہیں کرنا ناں
اپنے اندر ہی کسی روز بسا لینا ہے
ضرب دے کر تجھے تقسیم نہیں کرنا ناں
عشق ہم نے تو تجھے مان لیا ہے مرشد
پر تجھے سجدہءِ تعظیم نہیں کرنا ناں
اک خوشی آ کے کئی زخم لگا جاتی ہے
زندگی یوں تجھے تسلیم نہیں کرنا ناں
سب مجھے باپ کی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں
ایک بس تم مجھے تقسیم نہیں کرنا ناں
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *