آنکھوں سے چند خواب

آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھی
دریا چڑھا ہوا ہے اترنے کے بعد بھی
ثابت پڑے ہوئے بھی شکستہ ہی ہم لگے
تم پھول ہی لگے ہو بکھرنے کے بعد بھی
دونوں کلائیوں میں سجا لی ہیں چوڑیاں
بیٹھی ہے وہ اداس سنورنے کے بعد بھی
ان راستوں سے آج بھی خوشبو نہیں گئی
ایسا ٹھہر گیا وہ گزرنے کے بعد بھی
اس نے مجھے تسلیاں دیتے ہوئے کہا
وہ مجھ سے ملنے آئے گا مرنے کے بعد بھی
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *