اس طرح تیرے خیالوں میں

اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے
ہاتھ میرا ترے بالوں میں رہا کرنا ہے
اب کوئی داد و ستد بھی تو نہیں ہے ہم میں
تم نے کب تک یوں سوالوں میں رہا کرنا ہے
آبلہ پائی بھی منزل پہ ہی کام آئے گی
کوئی قصہ مرے چھالوں میں رہا کرنا ہے
تجھ کو خوشیوں نے بھی اک روز بھلا دینا ہے
میں نے ہر غم کے حوالوں میں رہا کرنا ہے
تو نے اب بھی مرے دن مجھ سے چرا لینے ہیں
میں نے اب بھی تری چالوں میں رہا کرنا ہے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *