آزاد غزلکسی رہگزر کا

آزاد غزل
کسی رہگزر کا غبار تھا جو اُڑا دیا
یا سجا دیا کسی بے حسی کی دکان پر
ترا درد مجھ سے خفا نہ ہو کے گزر پڑے
ترا نام لینے کا حوصلہ نہیں ہو رہا
جو شکار کرنے کو آگئے وہ اُجڑ گئے
کہ کسی نے تیر چلا دیا ہے کمان پر
وہ جو کر رہا ہے مری حیات کے فیصلے
وہی شخص، شخص رہا، خدا نہیں ہو رہا
کوئی حرف ٹھیک سے پھر ادا نہیں ہو سکا
ترا نام ایسے اٹک گیا ہے زبان پر
ابھی گم ہوں اپنی اداسیوں کے حصار میں
ترا سلسلہ ابھی جا بجا نہیں ہو رہا
مرے خواب بھی کسی اور راہ پہ چل پڑے
مجھے اک خیال پہ سوچنے بھی نہیں دیا
ترا درد بھی مری ذات سے نہ نکل سکا
مرا ضبط مجھ سے ابھی خفا نہیں ہو رہا
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *