آپ کو دل سے بھلانے لگے ہیں
ہم جسے سب کو بتاتے رہے تھے
آپ وہ بات چھپانے لگے ہیں
میں کہاں ہوں، مجھے لائو کہیں سے
وہ بڑی دور سے آنے لگے ہیں
اے غمِ دنیا ذرا ٹھہر تو جا
ہم انہیںرو کے منانے لگے ہیں
نیند تم ہی نہ چلی جانا کہیں
آج وہ خواب میں آنے لگے ہیں
وہ تو سج دھج کے بھی اجڑا ہی رہے
ہم بھی کس گھر کو سجانے لگے ہیں
تو نے پل بھر میں جو اک بات سنی
مجھ کو کہنے میں زمانے لگے ہیں
ایک تعبیر مٹانے کے لئے
خواب کو آگ لگانے لگے ہیں
دیکھ لو سانس نکلنے لگی ہے
ہم تمہیں چھوڑ کے جانے لگے ہیں
زین شکیل