آبرودار دربدر

آبرودار دربدر، سائیں!
ہے کٹھن ذیست کا سفر، سائیں!
مر نہ جاؤں میں بے قضا پل میں
تجھ سے ٹھہروں جو بے خبر سائیں!
اشہبِ وقت کب ٹھہرتا ہے
عمر بھی اتنی مختصر، سائیں!
ہم ادھر سے تو ہو لیے عاجز
اب بلاؤ کبھی اُدھر، سائیں!
زینؔ باقی گزارتا کیسے
راس آیا نہیں شہر، سائیں!
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *