ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر

ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر
بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے کچھ شیشے پر پیمانے پر
رنگ ہوا سے ٹپکنے لگا ہے سبزے میں کوئی پھول کھلا
یعنی چشمک گل کرتا ہے فصل بہار کے آنے پر
شور جنوں ہے جوانوں کے سر میں پاؤں میں زنجیریں ہیں
سنگ زناں لڑ کے پھرتے ہیں ہر ہر سو دیوانے پر
بیتابانہ شمع پر آیا گرد پھرا پھر جل ہی گیا
اپنا جی بھی حد سے زیادہ رات جلا پروانے پر
قدر جان جو کچھ ہووے تو صرفہ بھی ہمؔ میر کریں
منھ موڑیں کیا آنے سے اس کے اپنی جان کے جانے پر
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *