شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی
یوں پھرتا ہوں دشت و در میں دور اس سے میں سرگشتہ
غم کا مارا آوارہ جوں راہ گیا ہو بھول کوئی
ایک کہیں سر کھینچے ہے ایسا جس کی کریں سب پابوسی
ہو ہر اک کو قبول دلہا یہ نہ کرے گا قبول کوئی
کس امید کا تجھ کو اے دل چاہ میں اس کی حصول ہوا
شوخ و شلائیں خوشرویاں سے رہتا ہے مامول کوئی
لمبے اس کے بالوں کا میں وصف لکھا ہے دور تلک
حرف مار تو طولانی تھا پھر بھی وے ہے طول کوئی
مستی حسن پرستی رندی یہی عمل ہے مدت سے
پیر کبیر ہوئے تو کیا ہے چھوٹے ہے معمول کوئی
حرف و حکایت شکر و شکایت تھی اک وضع و وتیرہ پر
میرؔ کو جا کر دیکھا ہم نے ہے مرد معقول کوئی