آنکھ کھلتے گئی بہار افسوس

آنکھ کھلتے گئی بہار افسوس
گل کو دیکھا بھی نہ ہزار افسوس
جس کی خاطر ہوئے کنارہ گزیں
نہ ہوئے اس سے ہم کنار افسوس
نہ معرف نہ آشنا کوئی
ہم ہیں بے یار و بے دیار افسوس
بے قراری نے یوں ہی جی مارا
اس سے نے عہد نے قرار افسوس
خوں ہوئی دل ہی میں امید وصال
مر رہے جی کو مار مار افسوس
چارۂ اشتیاق کچھ نہ ہوا
وہ نہ ہم سے ہوا دوچار افسوس
اک ہی گردش میں اس کی آنکھوں کی
پھر گیا ہم سے روزگار افسوس
گور اپنی رہی گذر گہ میں
نہ ہوا یار کا گذار افسوس
منتظر ہی ہم اس کے میرؔ گئے
یاں تک آیا کبھو نہ یار افسوس
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *