اے نکیلے یہ تھی کہاں کی ادا

اے نکیلے یہ تھی کہاں کی ادا
کھب گئی جی میں تیری بانکی ادا
جادو کرتے ہیں اک نگاہ کے بیچ
ہائے رے چشم دلبراں کی ادا
بات کہنے میں گالیاں دے ہے
سنتے ہو میرے بد زباں کی ادا
دل چلے جائے ہیں خرام کے ساتھ
دیکھی چلنے میں ان بتاں کی ادا
خاک میں مل کے میرؔ ہم سمجھے
بے ادائی تھی آسماں کی ادا
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *