پھر اب چلو چمن میں کھلے غنچے رک گئے

پھر اب چلو چمن میں کھلے غنچے رک گئے
شاخوں سمیت پھول نہالوں کے جھک گئے
چندیں ہزار دیدۂ گل رہ گئے کھلے
افسوس ہے چمن کی طرف تم نہ ٹک گئے
بھڑکی تھی جب کہ آتش گل پھول پڑ گیا
بال و پر طیور چمن میرؔ پھک گئے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *