جینے کی اپنے ہم بھی کوئی طرح نکالیں
قالب میں جی نہیں ہے اس بن ہمارے گویا
حیران کار یارب ہم کیسا ڈول ڈالیں
محشر میں داد خوباں چاہیں تو کس سے چاہیں
واں لگ چلے ملک تو اس کو بھی یہ لگا لیں
طالع نہ ذائقے کے اپنے کھلے کہ ہم بھی
ان شکریں لبوں کے ہونٹوں کا کچھ مزہ لیں
خوش چشم خوبرویاں دیدہ وراں ہیں کتنے
دزدیدہ دیکھنے میں دل دیکھتے چرا لیں
عشق و جنوں سے جی تو تنگ آ گیا ہے کاش اب
دست تلطف اپنے سر سے مرے اٹھا لیں
خونریزی سے ہماری اچھا ہے ہاتھ اٹھانا
یوں چاہیے کہ دلبر درویش سے دعا لیں
چلتے ہیں ناز سے جب ٹھوکر لگے ہے دل کو
آتیں نہیں سمجھ میں ان دلبروں کی چالیں
منت ہزار کریے مانے منے نہ ہرگز
میرؔ ایسے غصہ ور کو ہم کس طرح منا لیں