مداوا سے مرض گذرا کہو اب میرؔ کیا کریے
نہ رکھا کر کے زنجیری پریشاں دل ہمارے کو
ہوئی یہ اب تو تیری زلف سے تقصیر کیا کریے
کریں استادگی آیا تھا جی پہ قتل ہونے میں
یہ اپنا کام ہے قاتل یہ اس کو دیر کیا کریے
نہیں آتا ہے کوئی ڈھب ہمیں آسودہ ہونے میں
بھلا تو ہی بتا اے خاطر دلگیر کیا کریے