حال دل میرؔ کا اے اہل وفا مت پوچھو

حال دل میرؔ کا اے اہل وفا مت پوچھو
اس ستم کشتہ پہ جو گذری جفا مت پوچھو
صبح سے اور بھی پاتا ہوں اسے شام کو تند
کام کرتی ہے جو کچھ میری دعا مت پوچھو
استخواں توڑے مرے اس کی گلی کے سگ نے
جس خرابی سے میں واں رات رہا مت پوچھو
ہوش و صبر و خرد و دین و حواس و دل و تاب
اس کے ایک آنے میں کیا کیا نہ گیا مت پوچھو
اشتعالک کی محبت نے کہ دربست پھنکا
شہر دل کیا کہوں کس طور جلا مت پوچھو
وقت قتل آرزوئے دل جو لگے پوچھنے لوگ
میں اشارت کی ادھر ان نے کہا مت پوچھو
خواہ مارا انھیں نے میرؔ کو خواہ آپ موا
جانے دو یارو جو ہونا تھا ہوا مت پوچھو
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *