ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں
جبہے سے سینہ تک ہیں کیا کیا خراش ناخن
گویا کہ ہم نے منھ پر تلواریں کھالیاں ہیں
جب لگ گئے جھمکنے رخسار یار دونوں
تب مہر و مہ نے اپنی آنکھیں چھپا لیاں ہیں
صبح چمن کا جلوہ ہندی بتوں میں دیکھا
صندل بھری جبیں ہیں ہونٹوں کی لالیاں ہیں
درد و الم ہی میں سب جاتے ہیں روز و شب یاں
دن اشک ریزیاں ہیں شب زار نالیاں ہیں
حیزوں نے ریختے کو ووں ریختی بنایا
جوں ان دنوں میں بالے لڑکوں کی بالیاں ہیں
اجماع بوالہوس کو رکھ رکھ لیا ہے آگے
مت جان ایسی بھیڑیں جی دینے والیاں ہیں
ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں
جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں
وہ دزد دل نہیں تو کیوں دیکھتے ہی مجھ کو
پلکیں جھکا لیاں ہیں آنکھیں چرا لیاں ہیں
اس آفتاب بن یاں اندھیر ہو رہا ہے
دن بھی سیاہ اپنے جوں راتیں کالیاں ہیں
چلتے ہیں یہ تو ٹھوکر لگتی ہے میرؔ دل کو
چالیں ہی دلبروں کی سب سے نرالیاں ہیں