رکھتا نہیں ہے مطلق تاب عتاب اب دل

رکھتا نہیں ہے مطلق تاب عتاب اب دل
جاتا ہے کچھ ڈھہا ہی خانہ خراب اب دل
درد فراق دلبر دے ہے فشار بے ڈھب
ہو جائے جملگی خوں شاید شتاب اب دل
بے پردہ اس کی آنکھیں شوخی جو کرتیاں ہیں
کرتا ہے یہ بھی ترک شرم و حجاب اب دل
آتش جو عشق کی سب چھائی ہے تن بدن پر
پہلو میں رہ گیا ہے ہو کر کباب اب دل
غم سے گداز پا کر اس بن جو بہ نہ نکلا
شرمندگی سے ہو گا اے میرؔ آب اب دل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *