رکھتا ہے دل کنار میں صدپارہ دردمند

رکھتا ہے دل کنار میں صدپارہ دردمند
ہر پارہ اس کا پاتے ہیں آوارہ دردمند
تسکین اپنے دل کی جو پاتا نہیں کہیں
جز صبر اور کیا کرے بے چارہ دردمند
اسلامی کفری کوئی ہو ہے شرط درد عشق
دونوں طریق میں نہیں ناکارہ دردمند
قابل ہوئی ہیں سیر کے چشمان خوں فشاں
دیکھیں ہیں آنکھوں لوہو کا فوارہ دردمند
کیا کام اس کو یاں کے نشیب و فراز سے
رکھتا ہے پاؤں دیکھ کے ہموارہ دردمند
اس کارواں سرائے کے ہیں لوگ رفتنی
حسرت سے ان کا کرتے ہیں نظارہ دردمند
سو بار حوصلے سے اگر رنج کش ہو میرؔ
پھر فرط غم سے مر رہے یک بارہ دردمند
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *