رنج و غم آئے بیشتر درپیش

رنج و غم آئے بیشتر درپیش
راہ رفتن ہے اب مگر درپیش
مرگ فرہاد سے ہوا بدنام
ہے خجالت سے تیشہ سردرپیش
یار آنکھوں تلے ہی پھرتا ہے
میری مدت سے ہے نظر درپیش
خانہ روشن پتنگوں نے نہ کیا
ہے چراغوں کو بھی سحر درپیش
غم سے نزدیک مرنے کے پہنچے
دور کا میرؔ ہے سفر درپیش
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *