عشق کی گرمی دل کو پہنچی کہتے ہی آزار بہت
نالہ و زاری سے عاشق کی کیا ابر بہاری طرف ہو گا
دل ہے نالاں حد سے زیادہ آنکھیں ہیں خونبار بہت
برسوں ہوئے اب ہم لوگوں سے آنکھ انھوں کی نہیں ملتی
برسوں تک آپس میں رہا ہے اپنے جنھوں کے پیار بہت
ارض و سما کی پستی بلندی اب تو ہم کو برابر ہے
یعنی نشیب و فراز جو دیکھے طبع ہوئی ہموار بہت
سو غیروں میں ہو عاشق تو ایک اسی سے شرماویں
اس مستی میں آنکھیں اس کی رہتی ہیں ہشیار بہت
کم ہے ہمیں امید بہی سے اتنی نزاری پر اس کی
پچھلے دنوں دیکھا تھا ہم نے عاشق تھے بیمار بہت
میرؔ نہ ایسا ہووے کہیں پردے ہی پر وہ مار مرے
ڈر لگتا ہے اس سے ہم کو ہے وہ ظاہر دار بہت