زمیں پر میں جو پھینکا خط کو کر بند

زمیں پر میں جو پھینکا خط کو کر بند
بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند
گرفت دل سے ناچاری ہے یعنی
رہا ہوں بیٹھ میں بھی کر کے گھر بند
پھنسا دل زلف و کاکل میں نہ پوچھو
پڑا ہے ناگہ آ کر بند پر بند
سب اس کی چشم پر نیرنگ کے محو
مگر کی ان نے عالم کی نظر بند
چمن میں کیونکے ہم پربستہ جاویں
بلند ازبس کہ ہے دیوار و در بند
بہت پیکان تیر یار ٹوٹے
تمام آہن ہے اب میرا جگر بند
ہوئیں رونے کی مانع میری پلکیں
بندھا خاشاک سے سیلاب پر بند
کہا کیا جائے ان ہونٹوں کے آگے
ہماری لب گزی ہے یہ شکر بند
کھلے بندوں نہ آیا یاں وہ اوباش
پھرا مونڈھے پہ ڈالے بیشتر بند
یہی اوقات ہے گی دید کی یاں
رکھ اپنی چشم کو شام و سحر بند
نچا رہتا تھا چہرہ جس سے سو اب
گریباں میں ہے وہ دست ہنر بند
فن اشعار میں ہوں پہلواں میرؔ
مجھے ہے یاد اس کشتی کا ہر بند
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *