ساقی کی باغ پر جو کچھ کم نگاہیاں ہیں

ساقی کی باغ پر جو کچھ کم نگاہیاں ہیں
مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں
تیغ جفائے خوباں بے آب تھی کہ ہمدم
زخم بدن ہمارے تفسیدہ ماہیاں ہیں
مسجد سے میکدے پر کاش ابر روز برسے
واں رو سفیدیاں ہیں یاں روسیاہیاں ہیں
جس کی نظر پڑی ہیں ان نے مجھے بھی دیکھا
جب سے وہ شوخ آنکھیں میں نے سراہیاں ہیں
غالب تو یہ ہے زاہد رحمت سے دور ہووے
درکار واں گنہ ہیں یاں بے گناہیاں ہیں
یہ ناز و سرگرانی اللہ رے کہ ہر دم
نازک مزاجیاں ہیں یا کج کلاہیاں ہیں
شاہد لوں میرؔ کس کو اہل محلہ سے میں
محضر پہ خوں کے میرے سب کی گواہیاں ہیں
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *