کھلے بند مرغ چمن سے ملا کر
لگا کہنے فرصت ہے یاں یک تبسم
سو وہ بھی گریباں میں منھ کو چھپا کر
تناسب پہ اعضا کے اتنا تبختر
بگاڑا تجھے خوب صورت بنا کر
قیامت رہا اضطراب اس کے غم میں
جگر پھر گیا رات ہونٹوں پہ آ کر
اسی آرزو میں گئے ہم جہاں سے
نہ پوچھا کبھو لطف سے ٹک بلا کر
کھنچی تیغ اس کی تو یاں نیم جاں تھے
خجالت سے ہم رہ گئے سر جھکا کر
مبارک تمھیں میرؔ ہو عشق کرنا
بہت ہم تو پچھتائے دل کو لگا کر