شائستۂ غم و ستم یار ہم ہوئے

شائستۂ غم و ستم یار ہم ہوئے
عاشق کہاں ہوئے کہ گنہگار ہم ہوئے
کی عرض جو متاع امانت ازل کے بیچ
سب اور لے سکے نہ خریدار ہم ہوئے
جی کھنچ گیا اسیرقفس کی فغاں کی اور
تھی چوٹ اپنے دل کو گرفتار ہم ہوئے
پامال یوں کیا کہ برابر ہیں خاک کے
کیا ظلم ہو گیا جو طلبگار ہم ہوئے
ہوتا نہیں ہے بے خبری کا مآل خوب
افسوس ہے کہ دیر خبردار ہم ہوئے
وصل اس طبیب زادے کا جی چاہتا رہا
آخر اس آرزو ہی میں بیمار ہم ہوئے
پھل ہے یہ میرؔ عشق کا اس نوبہار کے
آخر جو کشت و خوں کے سزاوار ہم ہوئے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *