شرط یہ ابر میں ہم میں ہے کہ روویں گے کل

شرط یہ ابر میں ہم میں ہے کہ روویں گے کل
صبح گہ اٹھتے ہی عالم کو ڈبوویں گے کل
آج آوارہ ہو اے بال اسیران قفس
یہ گل و باغ و خیابان نہ ہوویں گے کل
وعدۂ وصل رہا ہے شب آئندہ پہ میرؔ
بخت خوابیدہ جو ٹک جاگتے سوویں گے کل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *