صبر کیا ہے برسوں ہم نے رات سے بے طاقت سے ہیں

صبر کیا ہے برسوں ہم نے رات سے بے طاقت سے ہیں
اور گذارا کب تک ہو گا کچھ اب ہم رخصت سے ہیں
رسم لطف نہیں ہے مطلق شہر خوش محبوباں میں
دیکھے کم جو کرتے کسو پر ہم عاشق مدت سے ہیں
عشق کے دین اور مذہب میں مرجانا واجب آیا ہے
کوہکن و مجنون موئے اب ہم بھی اسی ملت سے ہیں
ملنا نفروں سے ان کا چھوٹا آ کر میری صحبت میں
پھر متنفر بھی یہ بے تہ مجھ سے کی صحبت سے ہیں
فرصت ان کو کم ہے اگرچہ پر ملتے ہیں قابو پر
برسوں میرؔ سے مل دیکھا ہے کچھ وے کم فرصت سے ہیں
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *