طوف مشہد کو کل جو جاؤں گا

طوف مشہد کو کل جو جاؤں گا
تیغ قاتل کو سر چڑھاؤں گا
وصل میں رنگ اڑ گیا میرا
کیا جدائی کو منھ دکھاؤں گا
چھانتا ہوں کسی گلی کی خاک
دل کو اپنے کبھو تو پاؤں گا
اس کے در پر گئے ہیں تاب و تواں
گھر تلک اپنے کیوں کے جاؤں گا
لوٹتا ہے بہار منھ کی خط
میرؔ میں اس پہ زہر کھاؤں گا
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *