غریب شہر خوباں ہوں مرا کچھ حال مت پوچھو

غریب شہر خوباں ہوں مرا کچھ حال مت پوچھو
ہوا جی زلف و کاکل کے لیے جنجال مت پوچھو
دل صد پارہ کو پیوند کرتا ہوں جدائی میں
کرے ہے کہنہ نسخہ وصل جوں وصّال مت پوچھو
جگر جل کر ہوا ہے کوئلہ بیتاب تو بھی ہوں
طپش سے دل کی میرے سر پہ ہے دھمال مت پوچھو
تعجب ہے کہ دل اس گنج سرگشتہ میں رہتا ہے
خرابے جس سے یہ پاتے ہیں مالامال مت پوچھو
لگا جی اس کی زلفوں سے بہت ہم میرؔ پچھتائے
ہوا ہے مدعی ایک ایک اپنا بال مت پوچھو
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *